اپنی زمین اپنا گھر سکیم 2026: مریم نواز کے مفت پلاٹ اور ہاؤسنگ لون سے کیسے فائدہ اٹھائیں؟
ہر انسان کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا اپنا گھر ہو، لیکن پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعمیراتی اخراجات کی وجہ سے غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے، حکومت پنجاب نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ایک شاندار فلاحی منصوبے ‘اپنی زمین، اپنا گھر’ کا آغاز کیا ہے۔ یہ سکیم خاص طور پر معاشرے کے انتہائی غریب اور مستحق افراد کو اپنا پکا گھر بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
حال ہی میں، صوبائی حکومت نے پنجاب کے شہریوں کے لیے ایک بہت بڑا اور خوش آئند اعلان کیا ہے۔ جن 2,000 بے گھر خاندانوں کو حکومت کی جانب سے مفت رہائشی پلاٹ دیے گئے تھے، اب انہیں ان پلاٹوں پر گھر بنانے کے لیے قرضہ بھی فراہم کیا جائے گا۔ یہ دوہری سہولت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مستحق افراد کو نہ صرف زمین ملے، بلکہ وہ بلا سود حکومتی مدد سے اس زمین پر اپنا ذاتی گھر بھی تعمیر کر سکیں۔ خطے میں سماجی فلاح و بہبود کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کا ایک بے مثال قدم ہے۔
اس تفصیلی اور جامع گائیڈ میں، آپ کو وزیر اعلیٰ کی اس شاندار مفت پلاٹ اور ہاؤسنگ لون سکیم کے بارے میں مکمل معلومات ملیں گی۔ ہم اس سکیم کے بنیادی مقاصد، مستحقین کے لیے موجود مالی فوائد اور رجسٹریشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ، اس آرٹیکل میں آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ، مطلوبہ قانونی دستاویزات اور اہلیت کے معیار کو بھی آسان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
| خصوصیت | تفصیلات |
|---|---|
| سکیم کا نام | اپنی زمین، اپنا گھر |
| کس نے شروع کی | وزیر اعلیٰ مریم نواز |
| بنیادی مستحقین | مفت پلاٹ حاصل کرنے والے 2,000 بے گھر خاندان |
| مالی امداد | گھر بنانے کے لیے بلا سود قرضہ |
| قرضے کی زیادہ سے زیادہ رقم | 15 لاکھ روپے تک |
| ماہانہ قسط | 14,000 روپے |
| واپسی کی مدت | 7 سال (84 ماہ) |
| آفیشل ویب سائٹ / پورٹل | azag.punjab.gov.pk |
تازہ ترین اپڈیٹ
اس صوبائی ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے سب سے اہم اور تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے بے گھر افراد کے لیے اپنی امداد کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق، جن 2,000 بے گھر خاندانوں کو حال ہی میں حکومت نے مفت رہائشی پلاٹ فراہم کیے تھے، اب انہیں مکان کی تعمیر کے لیے مالی مدد (قرضہ) بھی دی جائے گی۔ یہ ایک انتہائی اہم اپڈیٹ ہے جو اس سکیم کو محض زمین دینے کے منصوبے سے ایک مکمل ہاؤسنگ سلوشن میں تبدیل کر دیتی ہے۔
اس سے قبل، خالی پلاٹ ملنا یقیناً ایک بڑی مدد تھی، لیکن بہت سے غریب خاندانوں کے پاس تعمیراتی سامان خریدنے اور مزدوری کے اخراجات برداشت کرنے کی بالکل استطاعت نہیں تھی۔ اس مالی خلا کو پر کر کے وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس بات کی گارنٹی دی ہے کہ یہ پلاٹ خالی نہیں رہیں گے بلکہ ان پر محفوظ اور پختہ گھر تعمیر ہوں گے۔
یہ سکیم کیا ہے؟
’اپنی زمین، اپنا گھر’ پروگرام حکومت پنجاب کا ایک اہم ترین سماجی فلاحی منصوبہ ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو اپنی رہائش حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس سکیم کے تحت ابتدائی طور پر مستحق اور بے گھر شہریوں کی نشاندہی کی گئی اور انہیں مختلف سرکاری ہاؤسنگ سیکٹرز میں 3 مرلے کے مفت رہائشی پلاٹ دیے گئے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کیا اور رجسٹریشن کو آسان بنانے کے لیے ایک مخصوص الیکٹرانک پورٹل بھی متعارف کروایا۔
اب یہ سکیم صرف زمین دینے تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے حکومت کی وسیع تر ہاؤسنگ فنانس پالیسیوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ مفت پلاٹ حاصل کرنے والے مستحقین کو اب ایک خصوصی بلا سود قرضوں کے پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت گھر کی تعمیر کے لیے درکار فنڈز فراہم کرے گی اور وہ تمام بھاری سود خود برداشت کرے گی جو روایتی بینک عموماً چارج کرتے ہیں۔
مقاصد
اس وسیع حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد بے گھری کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرنا اور پنجاب کے غریب ترین طبقے کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ حکومت اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ ایک محفوظ گھر صرف اینٹوں سے بنی عمارت نہیں ہے، بلکہ یہ خاندانوں کو تحفظ، وقار اور ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ ایسے خاندانوں کو ہدف بنا کر جن کے پاس اپنی کوئی زمین نہیں، حکومت معاشرے میں برابری اور شمولیت کو فروغ دے رہی ہے۔
اس کے علاوہ، ایک اور اہم ترین مقصد غریب شہریوں کو روایتی مالیاتی اداروں اور ان کے بھاری سود سے بچانا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اس کام کے لیے کمرشل بینکوں کو شامل نہیں کیا جائے گا تاکہ غریب عوام کو پوشیدہ فیسوں اور بڑھتے ہوئے سود کی شرحوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بڑے فوائد
اس سکیم کے فوائد بہت شاندار ہیں اور انہیں خاص طور پر غریب عوام کے بجٹ کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سب سے پہلا اور واضح فائدہ 3 مرلے کے مفت رہائشی پلاٹ کی ملکیت ہے، جو کہ آج کے مہنگائی کے دور میں ایک انتہائی قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کے بعد، دوسرا بڑا فائدہ گھر بنانے کے لیے 15 لاکھ روپے تک کے قرضے تک رسائی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مالی امداد مکمل طور پر بلا سود (Interest-Free) ہے۔ یعنی مستحقین کو صرف اتنی ہی رقم واپس کرنی ہوگی جتنی انہوں نے حکومت سے لی ہے۔ مالی بوجھ کو مزید کم کرنے کے لیے، قرض کی واپسی کی مدت 7 سال تک رکھی گئی ہے۔ الاٹیز کو ماہانہ صرف 14,000 روپے کی قسط جمع کروانی ہوگی۔ حکومت کی جانب سے پہلی قسط کی ادائیگی کے لیے 3 مہینے کا گریس پیریڈ (چھوٹ) بھی دیا گیا ہے تاکہ خاندانوں کو تعمیراتی کام شروع کرنے اور اپنے معاملات سیدھے کرنے کا وقت مل سکے۔
کون درخواست دے سکتا ہے؟
اس سکیم کے موجودہ مرحلے میں درخواست دینے کی اہلیت کو سختی سے مستحق ترین افراد تک محدود رکھا گیا ہے۔ بنیادی ہدف وہ 2,000 بے گھر خاندان ہیں جنہیں حکومتی سطح پر پہلے ہی مفت پلاٹ الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ اس سکیم کا مرکز وہ شہری ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کرائے کے مکانوں یا عارضی پناہ گاہوں میں گزاری ہے اور ان کے نام پر کبھی کوئی جائیداد نہیں رہی۔
یہ پروگرام عام محنت کش افراد، مزدوروں اور کم آمدنی والے شہریوں کے لیے بنایا گیا ہے جو اپنا گھر بنانے کی لگن تو رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس یکمشت سرمایہ موجود نہیں ہے۔
اہلیت کا معیار
سرکاری وسائل کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے، حکومت نے اہلیت کے سخت پیرامیٹرز قائم کیے ہیں۔ سب سے پہلے، درخواست دہندہ کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا لازمی ہے، جس کی تصدیق ان کے کارآمد اور اصل قومی شناختی کارڈ (CNIC) سے کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، درخواست دہندہ کے پاس حکومت کی طرف سے دیا گیا مفت پلاٹ اور اس کے سرکاری کاغذات ہونا ضروری ہیں۔
مزید برآں، تعمیراتی قرضہ حاصل کرنے کے لیے، درخواست دہندہ کا مالی اور قانونی ریکارڈ بالکل صاف ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ماضی میں کسی بینک یا مالیاتی ادارے کا قرض لے کر ڈیفالٹ نہ کیا ہو۔ ساتھ ہی ان کا کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت درخواست گزار کی مالی حالت جانچنے کے لیے نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER) جیسے ڈیٹا بیس کا استعمال بھی کر سکتی ہے۔
کون اہل نہیں ہے؟
حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ امیر افراد یا سرمایہ کار اس فلاحی سکیم کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ کوئی بھی شخص جس کے نام پر پاکستان کے کسی بھی حصے میں پہلے سے کوئی مکان، رہائشی پلاٹ یا کمرشل پراپرٹی موجود ہے، وہ اس سکیم کے لیے بالکل نااہل تصور کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ جن افراد نے پہلے کبھی بینک کے قرضے یا مائیکرو فنانس سکیم کی رقوم ادا نہیں کیں (ڈیفالٹرز)، انہیں بھی تصدیقی عمل کے دوران نااہل کر دیا جائے گا۔ جن شہریوں کا مجرمانہ ریکارڈ ہے یا جو سنگین قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ بھی اس حکومتی امداد کے حقدار نہیں ہوں گے۔
مطلوبہ دستاویزات
حکومت نے طریقہ کار کو آسان رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن تصدیق کے لیے کچھ اہم دستاویزات کا ہونا لازمی ہے۔ درخواست دہندگان کو چاہیے کہ وہ اپلائی کرنے سے پہلے ان دستاویزات کو احتیاط سے اپنے پاس رکھ لیں:
- درخواست دہندہ کا کارآمد کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) جو ان کے پنجاب کے رہائشی ہونے کا ثبوت ہو۔
- درخواست دہندہ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ایک ایکٹیو (فعال) موبائل نمبر، تاکہ انہیں اہم اپڈیٹس اور پاس ورڈز (OTPs) موصول ہو سکیں۔
- حکومتی الاٹمنٹ لیٹرز، رجسٹری کی کاپیاں، یا وہ تمام سرکاری دستاویزات جو اس بات کو ثابت کریں کہ انہیں حکومت کی جانب سے مخصوص پلاٹ دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن کا عمل
صوبائی حکومت نے روایتی طریقہ کار کو ختم کرتے ہوئے درخواست دینے کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایک مخصوص ای پورٹل (e-portal) کا افتتاح کیا ہے تاکہ تمام کام مکمل طور پر شفاف ہو اور شہریوں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ اس آن لائن سسٹم کے ذریعے شہریوں کی درخواستیں براہ راست پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ کی جاتی ہیں۔
درخواست دہندگان کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری دفاتر میں دھکے کھانے کے بجائے اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال کریں۔ یہ آن لائن نظام انتہائی آسان ہے اور گھر بیٹھے صوبے کے کسی بھی حصے سے رسائی کے قابل ہے۔

آن لائن درخواست کا طریقہ کار
آفیشل الیکٹرانک پورٹل کے ذریعے درخواست دینا ایک آسان اور مرحلہ وار عمل ہے۔ سب سے پہلے، آپ کو حکومت کی مختص کردہ ویب سائٹ azag.punjab.gov.pk پر جانا ہوگا۔ ہوم پیج پر، نئی پروفائل بنانے کے لیے رجسٹریشن کے آپشن پر کلک کریں۔ آپ کو اپنا نام (جو شناختی کارڈ پر درج ہو)، شناختی کارڈ نمبر اور اپنا موبائل نیٹ ورک درج کرنا ہوگا۔
اکاؤنٹ بنانے کے بعد، آپ کو ایک ڈیجیٹل درخواست فارم پُر کرنا ہوگا۔ اس میں آپ کو اپنے الاٹ شدہ پلاٹ اور اپنے ضلع کی مکمل تفصیلات درج کرنی ہوں گی۔ اگلا اور اہم ترین مرحلہ اپنے مطلوبہ دستاویزات کی واضح تصاویر (سکن کاپیاں) اپ لوڈ کرنا ہے۔ تمام معلومات درج کرنے اور کاغذات منسلک کرنے کے بعد، فارم جمع کروا دیں۔ پورٹل آپ کو ایک ٹریکنگ نمبر جاری کرے گا، جس کی مدد سے آپ اپنی درخواست کا سٹیٹس کسی بھی وقت چیک کر سکیں گے۔
ادائیگی کی تفصیلات
اس سکیم کا مالیاتی ڈھانچہ غریب طبقے کے لیے بہت بڑی سہولت ہے۔ حکومت مستحق پلاٹ مالکان کو گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کر رہی ہے۔ اس مالی امداد کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سو فیصد بلا سود (Interest-Free) ہے۔
یہ یقینی بنانے کے لیے کہ قسطیں خاندان کے ماہانہ بجٹ پر بوجھ نہ بنیں، قرض کی کل رقم کو 7 سال کے طویل عرصے (یعنی 84 مہینوں) پر تقسیم کیا گیا ہے۔ اس طرح ہر ماہ صرف 14,000 روپے کی ایک مقررہ قسط ادا کرنی ہوگی۔ تعمیراتی کام شروع کرنے میں سہولت دینے کے لیے حکومت نے ابتدائی 3 ماہ کا گریس پیریڈ (چھوٹ کا وقت) بھی رکھا ہے، جس کے دوران آپ کو کوئی قسط نہیں دینی ہوگی۔
شامل اضلاع یا علاقے
یہ اقدام صرف کسی ایک بڑے شہر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے پورے صوبے میں برابری کی بنیاد پر پھیلایا گیا ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق، ابتدائی طور پر 2,000 مفت پلاٹ پنجاب کے 19 اضلاع میں موجود 23 مختلف ہاؤسنگ سکیموں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔
اس وسیع دائرہ کار کا مقصد یہ ہے کہ شہری مراکز کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کے بے گھر خاندانوں کو بھی وزیر اعلیٰ کے اس ہاؤسنگ وژن سے فائدہ اٹھانے کا مساوی موقع ملے۔ یہ صوبے میں متوازن ترقی کی ایک شاندار مثال ہے۔
آفیشل پورٹل
اس مخصوص منصوبے کے لیے حکومت کا واحد، آفیشل اور محفوظ الیکٹرانک پورٹل azag.punjab.gov.pk ہے۔ شہریوں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صرف اسی ویب ایڈریس کا استعمال کریں۔ فیس بک یا واٹس ایپ پر موجود غیر تصدیق شدہ لنکس پر کلک نہ کریں اور نہ ہی کسی ایسے ایجنٹ پر بھروسہ کریں جو فیس لے کر آپ کی درخواست جمع کروانے کا دعویٰ کرے۔ حکومت کی یہ آن لائن سروس بالکل مفت ہے۔
ہیلپ لائن کی معلومات
حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ تمام شہری انٹرنیٹ یا سمارٹ فون کا استعمال آسانی سے نہیں کر سکتے، اس لیے ایک مخصوص سپورٹ سسٹم بھی قائم کیا گیا ہے۔ اگر آپ کو آن لائن درخواست دینے میں کوئی تکنیکی خرابی درپیش ہے یا اہلیت کے حوالے سے کوئی سوال ہے، تو آپ آفیشل ٹول فری ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ 080009100 ملا کر براہ راست تربیت یافتہ نمائندوں سے بات کر سکتے ہیں جو رجسٹریشن کے عمل میں آپ کی مکمل رہنمائی کریں گے۔
درخواست دہندگان کی عام غلطیاں جن سے بچنا چاہیے
حکومتی مالی امداد کے لیے اپلائی کرتے وقت معمولی غلطیاں بھی درخواست مسترد ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔ سب سے عام غلطی شناختی کارڈ کا غلط نمبر درج کرنا یا ایسا موبائل نمبر دینا ہے جو بند ہو یا کسی اور کے نام پر ہو۔ حتمی بٹن دبانے سے پہلے ہمیشہ اپنی درج کردہ معلومات کو دو بار چیک کریں۔
ایک اور عام غلطی اہم دستاویزات (جیسے الاٹمنٹ لیٹر) کی دھندلی یا غیر واضح تصاویر اپ لوڈ کرنا ہے۔ اگر تصدیقی کمیٹی آپ کی دستاویزات کو واضح طور پر نہیں پڑھ سکے گی، تو آپ کی درخواست روک دی جائے گی۔ آخر میں، کسی بھی غیر متعلقہ شخص یا ایجنٹ کو پیسے دینے سے گریز کریں، یہ سارا عمل ڈیجیٹل اور میرٹ پر مبنی ہے۔
ماہرین کے مشورے
اپنی درخواست کو تیزی سے اور کامیابی کے ساتھ پراسیس کروانے کے لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے موبائل کی سِم آپ کے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہو، کیونکہ حکومت کی طرف سے تمام میسجز اور پاس ورڈز اسی نمبر پر آئیں گے۔ اگر آپ کا شناختی کارڈ ایکسپائر (زائد المیعاد) ہونے والا ہے، تو اپلائی کرنے سے پہلے اسے نادرہ سے رینیو کروا لیں۔
اس کے علاوہ، اپنے پاس ایک فولڈر بنا کر رکھیں جس میں آپ کی درخواست جمع ہونے کی رسید کا پرنٹ، پلاٹ کے اصل کاغذات اور شناختی کارڈ کی کاپیاں موجود ہوں۔ یہ کاغذات اس وقت بہت کام آئیں گے جب آپ کو ہاؤسنگ حکام کی جانب سے جسمانی تصدیق (Physical Verification) کے لیے بلایا جائے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. اپنی زمین اپنا گھر سکیم کیا ہے؟
یہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے شروع کیا گیا ایک صوبائی فلاحی پروگرام ہے جس کے تحت بے گھر خاندانوں کو مفت رہائشی پلاٹ اور گھر بنانے کے لیے تعمیراتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔
2. درخواست دہندہ کو مکان کی تعمیر کے لیے کتنا قرض مل سکتا ہے؟
جو مستحق افراد مفت پلاٹ حاصل کر چکے ہیں، وہ گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
3. اس سرکاری قرض کی ماہانہ قسط کتنی مقرر کی گئی ہے؟
رقم کی واپسی کا منصوبہ بہت آسان بنایا گیا ہے، جس کی ماہانہ قسط صرف 14,000 روپے رکھی گئی ہے۔
4. کیا اس قرض پر کوئی سود یا پوشیدہ فیس وصول کی جائے گی؟
جی نہیں، یہ قرض 100 فیصد بلا سود (0% Interest) ہے۔ حکومت نے اسی لیے کمرشل بینکوں کو اس عمل سے دور رکھا ہے تاکہ عوام پر کوئی پوشیدہ فیس نہ لگے۔
5. قرض واپس کرنے کے لیے کتنا وقت دیا جائے گا؟
قرض داروں کو لی گئی رقم مکمل واپس کرنے کے لیے 7 سال (84 مہینے) کا طویل اور آرام دہ وقت دیا گیا ہے۔
6. پہلی قسط ادا کرنے سے پہلے کتنا گریس پیریڈ (چھوٹ) ہے؟
حکومت کی جانب سے تین ماہ کا گریس پیریڈ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پہلے 3 مہینے کے دوران آپ کو کوئی قسط ادا نہیں کرنی۔
7. یہ مخصوص ہاؤسنگ لون حاصل کرنے کے لیے کون اہل ہے؟
اس کی بنیادی توجہ ان 2,000 بے گھر خاندانوں پر ہے جنہیں حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر 3 مرلے کے مفت رہائشی پلاٹ دیے جا چکے ہیں۔
8. درخواست دینے کے لیے مجھے کون سی آفیشل ویب سائٹ استعمال کرنی چاہیے؟
تمام درخواستیں ڈیجیٹل طور پر حکومت کے آفیشل ای پورٹل azag.punjab.gov.pk کے ذریعے جمع کروانی لازمی ہیں۔
9. یہ سکیم کتنے اضلاع میں کام کر رہی ہے؟
اس کا ابتدائی مرحلہ پنجاب کے 19 اضلاع میں موجود 23 مختلف ہاؤسنگ سکیموں کے اندر 2,000 پلاٹوں پر محیط ہے۔
10. مزید رہنمائی کے لیے آفیشل ہیلپ لائن نمبر کیا ہے؟
جو درخواست دہندگان مدد یا معلومات چاہتے ہیں وہ حکومت کی آفیشل ٹول فری ہیلپ لائن 080009100 پر کال کر سکتے ہیں۔
حتمی خیالات
’اپنی زمین، اپنا گھر’ سکیم صوبائی حکومت کے بے گھر افراد کے مسائل حل کرنے کے طریقے میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی کی عکاس ہے۔ مفت رہائشی پلاٹوں کی تقسیم کے ساتھ قابل رسائی اور بلا سود تعمیراتی قرضوں کو ملا کر، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے غریب اور پسماندہ شہریوں کے لیے اپنا گھر بنانے کا ایک انتہائی عملی اور ہمدردانہ راستہ تیار کیا ہے۔ اس سکیم سے مستفید ہونے والے 2,000 بے گھر خاندان جلد ہی بے یقینی کی زندگی سے نکل کر اپنے ذاتی گھروں کے تحفظ اور وقار میں قدم رکھیں گے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا اس اہلیت کے معیار پر پورا اترتا ہے، تو آج ہی ضروری دستاویزات جمع کریں اور درخواست دینے کے لیے آفیشل آن لائن پورٹل کا استعمال کریں۔ اپنی درخواست اور سکیم کے حوالے سے ہمیشہ سرکاری ذرائع اور ہیلپ لائنز پر بھروسہ کریں۔



Middle class